افسانہ ۔۔۔۔۔اعتراض ۔۔۔۔از۔۔۔۔۔مہک خان

Spread the love

اعتراض

از۔مہک خان

 

میٹھی میٖٹھی باتیں کرنا اور اپنے چکر میں لڑکیوں کو پھنسانا بلاول کا پرانا دھندا تھا۔اس کا صرف ایک ہی کام تھاکہ پیسہ کبھی ختم نہ ہو۔اسکا دوست علی اُسے سمجھاتا رہتا مگر وہ ہے کہ ٹس سے مس نہ ہوتا۔ہزارو ں لڑکیاں اس کے چکر میں صرف اسکی شکل کی وجہ سے پھنس جاتیں۔سب اسکے ساتھ وفا کی اُمیدرکھتیں اور وہ صرف پیسے کی اُمید میں پیارکی پینگیں بڑھاتارہتا۔علی اور بلاول ہاسٹل میں رہتے تھے۔

علی ایک سلجھا ہوااور بلاول انتہا کا خبیث لڑکا تھا۔علی رہتا تو اسکے ساتھ تھا مگر دونوں الگ الگ دنیا کے مالک تھے۔علی بہت ذہین تھا مگر مالی حالات کچھ ٹھیک نہ تھے ۔اسکا باپ رکشہ چلاتا اور ماں کپڑے سلائی کرتی تھی ۔علی M.A ENGLISH کر رہا تھا۔سکالرشپ کی وجہ سے اسکی فیس معاف تھی ۔اور ہاسٹل کے اخرجات بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر وہ خود پورے کرتاتھا ۔اُسکی چار بہنیں تھی اور وہ اکلوتا بھائی تھا۔دوسری طرف بلاول جو اتنا امیرنہ تھا مگر اسکا باپ اچھا کما لیتا تھااسکی ساری خواہشیں اس وجہ سے پوری ہوجاتی تھیں کہ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی ۔بلاول بھی M.A ENGLISH کر رہا تھامگر پڑھائی سے کوسوں دور۔اُسکا یونیورسٹی جانے کا ایک ہی مقصد تھاکہ لڑکیوں کو بہلانا اپنے چنگل میں پھنسانااور پیسہ کمانا۔اسکے موبائل میں لڑکیوں کی عریاں تصویریں موجود رہتی تھیں جس سے وہ انھیںBlack mail کرتا تھا ۔نہ چاہتے ہوئے بھی انھیں پیسے دینے پڑتے تھے ۔کئی لڑکیوں نے خود کشی کر لی اور کئی پس رہی تھیں ۔علی جو کہ اچھا انسان تھا تعلیم مکمل ہونے کے بعد اسے نوکری مل گئی اور جاتے وقت اس نے پھر بلاول کو سمجھایا کہ ابھی بھی وقت ہے انسان بن جااور پڑھائی پر توجہ دے تاکہ وہ کمائے اور اسکے ماں باپ کھائیں۔بلاول نے کہا یار جاتے وقت بھی تیرا وہی پُرانا بھاشن سن سن کے کان پک گئے یار چل چھوڑمیں تجھے بس سٹاپ پر چھوڑآؤں۔دونوں بس سٹاپ پر پہنچے تھوڑی ہی دیر گزری گاڑی آگئی ۔دونوں گلے ملے اور دونو ں کی آنکھوں میںآنسوآگئے ۔بلاول نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہایار مجھے بڑے بڑے بھاشن کون دے گا ۔دونوں نے زور سے قہقہ لگایا۔اچھا یار چلتا ہوں اور فون پر رابطہ رہے گاانشاء اللہ۔واپسی پر اسے اپنا کمرہ خالی خالی لگا تنہائی کا احساس ہوا نہ جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی اور کب صبح ہوگئی اسے پتا ہی نہ لگا ۔اس نے جلدی سے کپڑے بدلے اور اپنے کام پر نکل پڑا ۔آج جب وہ یونیورسٹی میں گیا تودیکھا تو ہر جگہ ایک ہی بات تھی کہ یار وہ لڑکی کمال ہے یار وہ لڑکی کمال۔اسے بے چینی ہونے لگی تو اس نے ایک گروپ سے پوچھا تو پتا چلا کہ حرا نامی لڑکی جو خوبصورت تو ہے ساتھ میں امیر باپ کی اکلوتی اولاد ہے۔بے سابقہ بلاول کے منہ سے نکل پڑا یار میری تو لاٹری لگ گئی ۔بلاول نے خودکو سیٹ ویٹ کیا اور ادھر گیا جہاں وہ دو تین لڑکیوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ہیلو کرتے ہوئے ہاتھ بڑھایا جواب میں حرا نے ہاتھ ملاتے ہوئے ہیلو کیا ۔پھر دونوں نے ایک دوسرے کو اپناااپنا تعارف کروایا پھر تھوڑی دیر کے بعد حرا بائے کہتے ہوئے وہاں سے چل پڑی ۔بلاول خوشی سے نہ پھولے نہ سمائے۔اور یہ کہتا ہوا چل پڑا آج ہاتھ ملا لیا کل گلے سے بھی لگا لیں گے۔دن گزرتے گئے اب وہ روز ملتے دیر دیر تک باتیں کرتے ۔اب دوستی سے کام آگئے نکل چکا تھا ۔حرا کا بلاول کے لئے مہنگے مہنگے تحائف بلاول کا اس پر بے جا پیاربرساناچلتا رہا ۔بلاول نے حرا کو بتا رکھا تھا کے وہ بہت امیر ہے ۔اس لئے اسے یقین تھا کے اسکا باپ کبھی بھی اس رشتے سے انکار نہیں کرے گا۔حرا نے ایک دن بلاول سے شادی کی بات کی مگر اس نے ٹال مٹول سے کام لیا۔حرا کے گھر والے اسکا کسی امیر گھر میں رشتہ دیکھ رہے تھے مگر حرا نے گھر والوں کو رشتہ دیکھنے سے منع کر دیا اپنے اور بلاول کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ۔اسکے باپ نے کہا مجھے اس لڑکے سے ملنا ہے ۔حرا نے بلاول سے کہا میرے پاپاآپ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن وہ آج کل آج کل کرتا رہتا۔لیکن وہ کب تک بچتا رہتا اسکا پالا جواد علی خان سے پڑا تھا جو بہت بڑا Business man تھا۔آخر کار حرا کے اصرار پر اس نے ملنے کا فیصلہ کر لیا۔دونوں کی ملاقات ہو ئی بلاول کو کیا پتا تھاکہ اسکی بربادی آج سے شروع ہوئی ہے۔ملاقات سے واپسی پر اسکے دماغ میں ساری باتیں گھوم رہی تھیں اسے بلاول کی باتوں پررچاہ کر بھی اعتبار نہیں آرہا تھا۔اس نے بلاول کے پیچھے اپنے بندے لگا دیے تاکہ اس کی ساری معلومات حاصل کی جاسکے۔دو دن کے بعد اسے فون آیاکے ہمیں بلاول کے بارے میں کچھ پتا چلا ہے ۔اس نے انہیں اپنے آفس میں بلایا۔وہ آئے اور انھوں نے ساری معلومات دی وہ کہاں رہتا ہے کیا کرتا ہے اسکا باپ کیا کرتا ہے وہ کتنا امیر ہے۔وہ آفس سے سیدھا گھر آیاکافی پریشان تھا بیوی نے پوچھا تو سارا قصہ سنا دیا اور کہا کے بیٹی کو سمجھادیناتاکہ وہ اسکا خیا ل اپنے د ل سے نکال دے ۔جواد علی کواپنی بیٹی سے بہت پیار تھا اس لیئے اسے غلط انسان کے ہاتھوں نہیں سونپ سکتا تھا اور حالات کو جاننے کے بعد اسے یہ تو پتا چل گیا تھا کے اسے اسکی بیٹی سے نہیں پیسے سے پیار ہے جواد خان نے بلاول کو بہت سمجھایامگر اس نے ایک نہ سنی ۔ اس نے قتل کے الزام میں اندر کر وا دیااسے دس سال کی قید اور پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ ادھر حرا رو رو کر نڈھال اسے خود سے وحشت ہورہی تھی وہ ماضی کو سوچتی تو اسے خود سے نفرت ہوتی۔حرا تو جیسے مسکرانا بھول ہی گئی ہو۔اُدھر بلاول کے ما ں باپ کو پتا چلا کے اسکا بیٹا جسے انہوں نے پڑھنے کے لئے یونیورسٹی بھیجا تھا اسے تو یونیورسٹی سے کب کا نکال دیا گیا ہے اور وہ ایک ہوٹل میں رہ رہا تھا جو وہ پیسے بھیجتے تھے اس سے پڑھائی نہیں بلکہ عیاشی کر رہا تھا ۔ اور اب وہ جیل میں ہے اور اسکی رہائی ناممکن ہے۔ یہ صدمہ اسکا باپ برداشت نہ کر سکا اور اس دنیا کو چ کر گیا۔اکیلی ماں کہا کورٹ کے چکر لگا سکتی تھی اور دوسری طرف تیس ہزاررو پے ہر ما ہ پنشن ملتی تھی جس میں اسکی دوااور گزارہ مشکل سے ہوتا تھااتنا پیسہ کہاں سے لاتی جو اسکے لیئے مہنگا وکیل کرتی ۔دوائی کم کرکے درمیانے درجے کاوکیل کیا لیکن کیس ہارگئی۔ایک دن جب وہ بیٹے سے ملاقات کر کے واپس جا رہی تھی تو راستے میں اسکا accidentہوگیااور وہ بھی اس دنیا سے چلی گئی۔جب بلاول کو پتہ چلا تو بہت رویا بہت چلایا مگر اب اسکے رونے اسکے ماں باپ نہیں آسکتے تھے ۔بلاول کو جیل میں دو ماہ ہوگئے تھے مگر ان دنوں میں اسے حرا کی بہت یاد آئی اسے پیار ہونے لگا تھا ہاں وہ بلاول جو صر ف ٹائم پاس کرتا تھا سچ میں اسے پیار ہوگیا تھاوہ حراسے مل کے اس بتانا چاہتا تھا مگر حرا اسکی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی وہ دیکھتی بھی کیسے اوریقین بھی کیسے کرتی اس نے تو اسکی دنیا اُجاڑدی تھی ۔اس نے پولیس والے کی منت کی کے اسے ایک کا ل کرنے دی جائے پہلے تو وہ نہ مانا مگر پھر اپنا فون نکال کر دیا اور کہا جلد ی کرنا۔بلاول ٹھیک ہے صاحب اس نے جلدی سے حرا کا نمبر ملایا تیسری بیل پر کال اُٹھائی گئی ۔ہیلو کون بلاول تھوڑی دیر چپ رہا پھر بولا دیکھو حرا پلیز فون مت کاٹناپلیز پلیز ۔حرا بولو کیا کوئی کسر رہ گئی ہے ۔حرا مجھ معاف کر دو مین بہت شرمندہ ہوں میں میں نے جو بویا اسے کاٹ رہا ہوں۔دوسری طرف سے آواز آئی ہو گیا اب اللہ حافظ دیکھو حرا پلیز آخری بات I LOVE YOUمجھے تم سے سچا پیار ہوگیا ہے اسکا احساس مجھے تم سے بچھڑنے کے بعد ہوااور اسکا یقین تمہیں روزانہ دلاتا رہوں گا جب تک زند ہ ہوں ۔کب فون بند ہو ا پتا ہی نہیں چلا حرا کو محبت اب بھی بلاول سے محبت تھی مگر پھر اس پر اعتبار کر کے اپنی محبت کا مذاق نہیں بنا سکتی تھی ۔دوسری طرف بلاول جو اسے بے پناہ محبت کرنے لگا تھا۔بلاول نے پولیس والے کو ساری کہانی سنائی تو پولیس والے کو اس پر ترس آگیا اور اس نے کہا کے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو اس وقت بلاول نے کہابس روزانہ اس نمبر پر I LOVE YOUکا میسج کر دینا ۔حرا کے ماں باپ حرا کی شاد ی کر وانا چاہتے تھے مگر اس نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔اس نے کہا اگر زیادہ اصرار کیا تو وہ اپنی جان لے لے گی۔اس وجہ سے انہوں نے اس کو اپنے حال پر چھوڑدیا۔حرا روز میسج پڑھتی اور روز deleteکر دیتی۔آخڑبلاول کی پھانسی کا دن بھی آگیا مگر حر ا کا کوئی جواب نہ آیا۔ مگر اسے یقین تھا حرا ضرور آئے گی ۔جب اس سے آ خری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا مجھے کاپی پینسل چاہیے اسکی آخری خواہش پوری کر دی گئی اس نے کچھ لکھا اور اسی پولیس والے کو دے دیا یہ اس کو دے دینا۔ادھرحرا حالت اضطراب میں تھی۔اسکا دم گھٹ رہا تھا وہ رو تی ننگے پیر بھاگتی پولیس اسٹیشن پہنچی اور بلاول کا پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہی پولیس والا آیا اور بولا میڈم آپ نے دیر کر دی اس کو تو پھانسی ہو گئی ہے کچھ دیر پہلے۔۔۔۔۔۔ اور مرنے والا آپ کے لیے چٹھی چھوڑ گیا ہے ۔ ۔۔۔۔ مجھے پتا ہے تم آؤ گی۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ دیر کر دیتا ہو ں میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہو ں میں مدد کرنی ہواسکی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہو ں میں بدلتے موسم کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جاناہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہو ں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور بھی کچھ ا س کو جا کہ بتاناہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔ I LOVE YOU HIRA حرا کی سا نسیں اکھڑنے لگی اوراسی پولیس والے سے قلم مانگ کرکچھ لکھنے لگی۔اس کے گھراطلاع دی گئی ۔۔۔جب جواد اوراس کی بیوی موقع پر پہنچے توحراخط کے آخرمیں ایک جملہ لکھتے ہوئے دم توڑگئی۔’’پاپا!اس جہاں میں تومیرابلاول اچھانہ تھالیکن مٹی کے ساتھ مٹی ہونے سے قبل وہ میراہوچکاتھااب اُس مٹی میں اس کا حق ہے مجھ پراوراس مٹی پر اہل جہاں کوکوئی اعتراض نہیں ہوناچاہیئے وہ کسی کی جائیدادنہیں‘‘۔۔۔حراکی ماں اورپولیس والے کے اصرارپر ان کی قبریں ساتھ ساتھ بنا دی گئیں۔۔۔۔وہ ایسے ملے کے پھر کبھی نہ بچھڑسکے۔

Facebook Comments

4 thoughts on “افسانہ ۔۔۔۔۔اعتراض ۔۔۔۔از۔۔۔۔۔مہک خان

  1. A nice piece of work and heart touching. heart throbbing one
    keep it up.
    use bit imagery and description of scenes.

  2. روایتی انداز میں روایتی کردار کے ساتھ لالچ سے پردہ اٹھایا گیاہے ۔مصنف پر گہری چوٹ لگی ہے جو اس کی تحریر سے آشکار ہےلیکن واقعات کو بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا گیاہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *