کاف کتھا کی جستجو۔۔۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجید احمد جائی صاحب

Spread the love

کاف کتھا

تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی

کتابی آدمی کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا تحفہ ہو گا کہ اسے کتاب مل جائے ۔ہر بندے خوشی کا طلب گار اور خوشی تب ملتی ہے جب اُسے مطلوبہ چیز مل جائے ۔میں کتابوں کا رسیا ہوں اور مجھے کچھ ملے نہ ملے کتاب ضرور ملنی چاہیے ۔کتابوں سے باتیں کرنا ،کتابوں کے لمس میں کھوئے رہنا مجھے اچھا لگتا ہے ۔

کاف کتھا ‘‘بھی کتاب کا نام ہے جس کے تین لکھاری ہیں اور ایک مرتب کردہ ۔یوں یہ کتاب ظہور حسین ،سمیع اللہ خان اور اقراء ریاض ملک کی تحریروں پر مشتمل ہے جسے سمیع اللہ خان نے نفاست سے مرتب کیا ہے ۔تحریروں کے حوالے سے میری تینوں لکھاریوں سے ملاقات رہی ہے اور بالمصافحہ صرف سمیع اللہ خان سے ۔سمیع اللہ خان نیک دل کا مالک ہے اور اپنی پہچان پاکستان ادب پبلشر ز کے نام سے رکھتا ہے ۔جستجو کرنے والا ،اپنی منوانے والا ،مفید مشوروں سے نوازنے والا اور متحرک رہنے والا انسان ہے ۔
کاف کتھا ‘‘جیسے کے نام سے ظاہر ہے کہانیوں کا مجموعہ ہے جس کا سرورق بھی ایک نہیں کئی کہانیاں پیش کر رہا ہے اور کہانی کار کے ہاتھوں وجود میں آیا ہے ۔میری مراد ادب کی دُنیا کا معتبر نام جناب ’’ناصر ملک ‘‘صاحب ہیں ۔آپ شاعر بھی ہیں اور نثر نگار بھی ساتھ ساتھ پبلشر بھی ہیں ۔

کاف کتھا ‘‘کا انتساب پاک وطن کے سپاہی مقبول حسین کے نام کیا گیا ہے جو اب اِس دُنیا میں نہیں ہیں ۔ال تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین ۔انتساب کچھ یوں ہے ۔’’پاک وطن کا ایسا سپاہی جس نے اپنی زندگی درندوں کے عقوبت خانے میں اللہ کی رضا ،پاکستان کی سلامتی کے لیے گزار دی ۔پل پل جسمانی و ذہنی اذیتوں کے پہاڑ اس مرد مجاہد پر توڑے گئے لیکن صبر و استقامت کا یہ ستون آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر بنائے گئے اس ملک کے رازوں کا امین رہا حتی کہ اِسے قوت گویائی سے محروم کرکے انسانیت کی آخری حد بھی پار کی گئی ‘‘۔
کاف کتھا ‘‘31افسانوں پر مشتمل ہے جس میں ظہور حسین کے دس افسانے ،سمیع اللہ خان کے پندرہ افسانے اور اقراریاض کے چھ افسانے شامل ہیں۔کاف کتھا 192صفحات پر مشتمل ہے جس میں ظہور حسین کے افسانے 52صفحات پر ،سمیع اللہ خان کے 78صفحات پر اور اقراریاض ملک کے افسانے 42صفحات پر جبکہ 13صفحات پر لوگوں کی رائے دی گئی ہے ۔صفحوں کی یہ تقسیم حیرانگی میں ضرور مبتلا کرتی ہے ۔جا م کے پیمانے میں تضاد کیسا ؟
پیش لفظ میں سمیع اللہ خاں راقم الحروف کے ساتھ ساتھ دوسرے دوستوں کا ذکر خیر کرتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں اساتذہ میں تخلیقی قوت موجود ہو اور وہ محض طوطے بنانے میں اپنا وقت صرف نہ کریں تو ہمارے ہاں کی ڈارک ایجز بھی روشنی کے امکانات میں بخوبی ڈھل سکتی ہے ۔محمد حامد سراج لکھتے ہیں ’’یہ کتاب ایک سہہ برگر پودا ہے جس کی ہر شاخ پر مختلف النوع افسانوں کی مہک اپنی جانب کھینچتی ہے ۔ندیم نظر صاحب لکھتے ہیں ’’میرے سامنے ابترانے کا مسودہ ہے جو کئی ادیبوں کی تحریروں کا مرقع ہے ‘‘ممکن ہے جب ندیم نظر صاحب کے پاس کتاب کا مسودہ گیا ہو تو کتاب کا نام کاف کتھا کی بجائے ابترانے ہو اور بعد میں کاف کتھا رکھاگیا ہو ۔مرتب کردہ لکھاری نے اتنی زحمت گوارہ نہیں کی کہ ’’ابترانے ‘‘کا لفظ ہٹا کر کاف کتھا لکھادیتا ۔
عقیل انجم اعوان لکھتے ہیں ’’یہ کتاب آنے والے وقتوں میں اردو ادب میں ایک دستاویز کہلائے گی ‘‘آخر میں مرزا محمد یسین بیگ صرف اقراء ریاض ملک کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’اقراء ریاض ملک ایک منفرد افسانہ نگار ہیں ‘‘بیک فلیپ پر حامد سراج صاحب کی رائے دی گئی ہے ۔انر ٹائٹل پر ناصر ملک صاحب لکھتے ہیں افسانوں کا یہ مجموعہ تین روشن فہیم اور حساس افسانہ نگاروں کامشترک اظہار ہے اسی طرح یوسف عالمگیرین لکھتے ہیں ادب کسی معاشرے میں پائی جانی والی تہذیب کا عکاس ہوا کرتا ہے ۔
کاف کتھا ‘‘مجھ تک سمیع اللہ خان کے آٹوگراف کے ساتھ پہنچی ہے لکھتے ہیں ’’بصد خلوص محترم بڑے بھائی ’’مجیداحمد جائی صاحب کہنہ مشق افسانہ نگار اور کتاب سے عشق کرنے والے ادیب کے ذوق مطالعہ کی نذر‘‘یہ اُن کا بڑاپن ہے ۔میں کیا ؟میری اوقات کیا ؟
کاف کتھا ‘‘میں سب سے پہلے ظہور حسین کے افسانے ہیں ’’چائے کی پیالی ،انٹرویوزبردست افسانے ہیں ۔انٹرویو میں کمپوزنگ کی غلطیوں کی بہتات ہے ۔’’جوگی ،محسن ،پاگل ،سرخ ہاتھ اچھوتے اور درد بھرافسانے ہیں ۔سرخ ہاتھ کو ہی لے لیجیے معاشرے کی عکاسی کرتا افسانہ ۔بانو نے معاشرے کی روایات سے تنگ آکر خود ریل گاڑی کے نیچے آکر خود کشی کر لی ۔تہذیب ،جدید تہذیب ،معاشرے کی خوبصورت عکاسی کرتاافسانہ ہے لیکن ایک جملہ ’’تقریر کے چند خوبصورت اقتباسات آپ کی سماعتوں کی نذر کرتا ہوں ‘‘یہاں لکھاری اُلجھن کا شکار ہے ۔قاری کتاب پڑھ رہا ہے سن نہیں رہا جو سماعتوں کی نذر کررہے ہیں جبکہ لکھنا تھا بصارتوں کی نذر کرتاہوں ۔خدا اور محبت میں جہاں انگریزی کے الفاظ بدرجہ اُتم موجود ہیں وہاں بہترین جملے بھی ہیں جیسے ’’عشق کرنے کے لیے عورت کے خوبصورت ہونے سے زیادہ مرد کا اندھا ہونا ضروری ہے‘‘۔خدا اور محبت میں امین کے شہناز کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور چھ بچے اُس ہوس کی نشانی تھے جن کو امین کوئی اور رنگ دے کر اس کا ساتھ دے رہا تھا۔خود آ ،مرد زبردست افسانے ہیں ۔محمد حامد سراج سے میں اتفاق کروں گا کہ ظہور حسین کا قاری عام نہیں خاص ہے ۔یوں ان کے افسانے بھی خاص ہیں ۔
سمیع اللہ خان ’’کتنے کردار ‘‘میں کرداروں کی بحث میں لگے ہیں کہتے ہیں میری کہانی میں کردار نہیں ہوتے ۔۔۔جھوٹ ہی تو کہتے ہیں کردار ہیں تو کہانی ہے ۔کردار ہیں تو جہاں کی بہاریں ہیں ۔’’جستجو‘‘کے جملے دیکھئے ’’دیواریں چلاتے ہیں ،ڈھیلے سے سونا بناتے ہیں ،آسمان پر پرواز کرتے ہیں ۔۔۔مسلمان ایجاد کچھ نہیں کرتے ۔سمیع اللہ خان اپنے کرداروں کے ذریعے سرائیکی ،انگریزی ،اردو اور پنجابی زبان میں مکالمے کراتے ہیں اور ان کے افسانے تاریخ کے اوراق پلٹتے اور ضمیر کو جھنجوڑتے ہیں ،ایک تڑپ ہے کچھ کر گزرنے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔شمشان گھات کے زبردست جملے ہی پڑھ لیجئے ’’سب جلنے والے مرے نہیں ہوتے اور سب مرنے والے جلے نہیں ہوتے ۔ایتھے تے ساڑ نیں ۔آگ ہی حل ہے اور آگ ہی مسئلہ ۔شمشان گھاٹ باہر نہیں اندربھی ہوتی ہے جہاں ارمان جلتے ہیں ۔
دھمال میں لفظ سالے لکھ کر گالی تک دے جاتے ہیں ۔بے غیرت میں ’’اگر ہم کسی کی جائز محبت کو قانوی درجہ دینے میں رکاوٹ نہ بنیں تو معصوم جانیں اس طرح کچڑے کے ڈھیر اور گنے کی فصل میں پڑی ہوئی نہ ملیں ۔انسان کو جینے کا حق ملے تو وہ کیوں بے غیرت بنے گا ۔زبردست افسانہ دلوں کو جھنجوڑتا ہے ،معاشرے کے کرداروں کو معاشرے کے کرداروں ہی سے طمانچے مارتے ہیں ۔اس کو پڑھ کرحساس دل والوں کیلئے آنسوؤں پہ قابو رکھنا نہ ممکن ہے ۔
سمیع اللہ خان سنجیدہ ادب تخلیق کرتا ہے ،اپنے قاری کو جستجو کی طرف گامزن کرتا ہے ۔اُمید کے پھول اُگاتاہے ،مثالوں سے واضح کرتا چلا جاتا ہے ۔اُجلے چہرے ‘‘میں چاول بیچنے والا ریڑھی والا آدمی اتنی معلومات اور مغرب و مشرق کا گہر ا مطالعہ رکھتا ہے ،حیران کن امر یہ ہے کہ اتنا علم رکھنے والا پڑھا لکھا کالج کے گیٹ پر چاولوں کی ریڑھی لگا کر بیچنے پر مجبور ہے ۔۔۔کس طرح پاکستان کے مسائل سامنے رکھتے ہیں ۔’’سکون ‘‘کا آخری جملہ کتنا درد دینے والا ہے ۔’’جا جا اڑ جا تھل کے مکین ‘‘ ۔استاد ظہور حسین چائے کی پیالی لکھتا ہے اور شاگرد نمکین چائے لکھتا ہے ۔ایک افلاطون ہے تودوسرا ارسطو ۔واہ بھائی واہ ۔


سمیع اللہ خان ’’غصہ کھانے کی کوئی شئے نہیں ہے ،غصے کو پیا جاتا ہے ۔کاف کتھا میں لکھے جملے پر غور کیجئے گا۔
اقراء ریاض ملک کے افسانہ ’’میری آخری محبت’’کمال کا جملہ یہ ہے ،میری آخری محبت اللہ اور اس کا رسول ہے ‘‘اقراء ریاض ملک کے افسانوں میں تصوف کی جھلک ملتی ہے ۔توکل کے آخری جملہ ہی پڑھ لیجیے’’اس عظیم ذات پر پختہ یقین ہو کہ وہ جو کرے گا ہمارے حق میں بہتر ہی کرے گا ۔‘‘ہوسپیٹل سے ہوسپیٹل تک درد ناک کہانی پر مشتمل ہے ۔زدر پشمان بھی خوب ہے ۔بے وفا لڑکی کا خوبصورت جملہ ’’ماں باپ کی عزت کی خاطر اپنے احساسات چھپانا اور کسی نامحرم کا دل توڑنا بے وفائی ہے تو ہاں لڑکی بے وفا ہے اور اس کو بے وفا ہونے پر فخر بھی ہے ۔
میری کائنات ہے وہ ‘‘افسانے میں غلطیاں موجود ہیں جیسے (بینک کی جان مل جاتی )۔حروف بین ضرور کوتاہی کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں ۔اقراء ریاض ملک کے افسانوں کے عنوانات پورے پورے جملے پر مشتمل ہیں ۔جیسے ’’میری کائنات ہے وہ ،میری آخری محبت وغیرہ ۔
کاف کتھا کی اشاعت عمدہ کاغذپر کی گئی ہے ۔میں تینوں لکھاریوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔کتاب کی قیمت 500روپے ہے ۔یہ کتاب ہر اچھے بک اسٹال پر دستیاب ہے ۔

مجید احمد جائی ایک کہنہ مشق افسانہ نگار ہیں ۔جو ملتان کے علاقہ چاہ جائی والا میں ایک ادبی لائبریری چلا رہے ہیں۔جناب مجید احمد جائی صاحب پانچ کتب مرتب کر چکے ہیں جبکہ کتابوں پر تبصرہ نگاری بھی ان کے مشاغل میں شامل ہیں ان کے لکھے تبصرے روزنامہ خبریں اور روزنامہ آفتاب سمیت موقر جریدوں میں اپنالوہا آپ منوا چکے ہیں۔
Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *