سویرا سیفل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہور حسین

Spread the love

سویرا سیفل

ٹین ۔ ٹین ۔ تیز کانوں میں چھید کر نے والی آواز نے ٹھہری ہوئی فضا میں ہلچل مچا دی ۔ ایک نہیں دو تین کواڑ یک بیک کھلے ،ایک کواڑسے ایک ادھیڑعمر کا بزرگ جس کی توند قدرے بڑھ ہوئی تھی اور ٹانگیں کمزور ،تھوڑی بے ڈھنگی چال کے ساتھ آگے بڑھا اور جھانکا ۔ خیرہے ،شکرہے اللہ،سویرا ابھی گہری نیند میں ہے ،شکر ہے، بیدار نہیں ہوئی اور وہ پوری مستعدی و تندی سے دروازے کی طرف لپکا اس سے پہلے دوبارہ ٹین ،ٹین،کی آواز اس کی شہزادی کو بیدار کر تی ۔ دوسرے دروازے میں چھوٹی مگر موٹی عورت ساکت و جامدکھڑی یہ سب تماشا دیکھتی رہی ۔ آنسو آنکھوں سے جاری نیچے کھردرے گالوں پر لڑھک آئے اور پھر ایک پتلی سی لکیر دور سے نظرآنے لگی ۔ دروازے کی سمت بڑھنے والا شخص اس کے کرب کو دیکھ سکتا تھا،محسوس کر سکتا تھالیکن برملا اظہار نہیں کر سکتاتھاکیونکہ خامشی ٹوٹ جاتی اور شور بلکل نہیں چاہیے تھا ۔ سب صرف سکون کے متلاشی تھے ۔ اگرچہ اس ٹھہرے سمندر کے اندر ایک طوفان ٹھاٹھیں مار رہا تھا،لیکن لب سی لیے تھے کہ وہ ننھی پری اپنے کمرے سے نہیں جاگ پائے ۔ اس کا سکون،اُس کا آرام ،اُسکی راحت اوراُسکی خوشی کی خاطر دونوں میاں بیوی دن رات محو ۔ خاوند باہر نمودار ہوا،پرانی موٹر سائیکل پر تھیلا لٹکائے مکینک سے مصافحہ کیا اور گھر کی بیل کا کنکشن منقطع کر نے کو کہا ۔ وہ حیرت سے کنکشن کاٹ رہا تھاکہ لوگ اپنی بیل درست کراتے ہیں ،بہتر کر واتے ہیں ا،ن میں جدت لاتے ہیں اور یہ بزرگ خیر، اپنا کام کنکشن کاٹنا ہے ۔ کاٹ دیا جناب ۔ اور بزرگ نے اُس کی مزدوری مٹی آلودہاتھوں میں تھما دی اور بغیربولے دروازے کے کواڑ کو زور سے بند کیا اور اپنی بیوی کے پہلو میں غم سے ڈھیر ہوگیا ۔ خاموشی ہی دونوں میں ذریعہ کمیونیکیشن تھی ۔ کافی دیر تک وہ ٹکٹکی باندھ کر چھت کو تکتا رہا اور اُس کی زوجہ محترمہ اس کے چہرے پر اُبھرتے ٹھہرتے سب نقوش کابغور جائزہ لینے میں مصروف تھیں ۔ اتنے میں ساتھ والے بیڈ روم سے ہلکی سی سرسراہٹ محسوس ہوئی اور دونوں چونکے ، لپکے ۔ ایک آواز پھر فضا میں بلند ہوئی اور ان دونوں کا کلیجہ چیرتی ہوئی روح کو گھائل کر گئی ۔ خان صاحب آگئے ہیں نا;238;،دروازے پر ابھی بیل دی ہے خان نے ،،اور یہ آواز نہیں تھی بلکہ ٹھہرے پانی میں کسی نے کنکر مارا تھا ۔ ماں کی آنکھوں سے آنسوں کا سمند ر اُمڈ ا ٓیا اور آنسوں کو قابو کرنا ناممکن تھا ۔ میری پیاری !میری لاڈلی بس کرو ۔ فکر چھوڑ دو اُس کمینے لالچی انسان کی ۔ اب وہ نہیں آئے گا ۔ اتنے میں ماں نے اپنے پر پھیلائے اور ننھی پری کو آغوش میں لے لیا ۔ سویرا اب بغیر شور کے روئے جارہی تھی ۔ آنسوں تھمنے کا نام تک نہیں لے رہے تھے ۔ آنسوءوں کی ایک لکیرجاری تھی اور اُس پتلی سی لکیر نے سرخ و سپید گالوں پر نشان چھوڑ رکھے تھے ۔ آنسو اس طرح تیزی سے بہہ رہے تھے جیسے اونچائی سے ڈھلوان کی جانب پانی تیزی سے چلتا ہے ۔ دامن پھر سے موتیوں سے بھر گیا ۔ باپ اپنی مردانگی وجاہت کی آڑ میں سویرا کو صبر کی تلقین میں مصروف تھا اور اندر سے بری طرح سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،ریزہ ریزہ ۔ عمر کے اس حصے میں اپنی خو برو جوان سالہ بیٹی کے دامن میں گرتے آنسو، آنسو نہیں تھے،آگ کے گولے تھے جو سیدھے اس کے چوڑے چکلے سینے کو فگار کیے ہوئے تھے ۔

 

سویرا ایک خوبرو دراز قامت کھلی پیشانی،اکہرے بدن چست شانوں اور ان کے گرد سیاہ زلفوں کے حلقے والی گوری رنگت کی حسین لڑکی تھی ۔ گھر والے اور اہل عیال سب اس کی خوبصورتی کے دیوانے تھے ۔ سویرانہ صرف ایک خوبصورت شکل وصورت والی بلکہ نیک طنیت تھی ۔ اس جدید دور میں صوم صلٰوت کی پابند اور اپنے کام سے کام رکھنے والی چند لڑکیوں میں تھی جو آئیڈیل تھیں ۔ خدا نے اسے شریں گفتار سے بھی نوازا تھا ۔ دھیمے لہجے والی یہ لڑکی جس سے بات کرتی اسے اپنا دیوانہ بنالیتی ۔ اس لیے خاندان کے تمام رشتے دار اس کی چاہت میں رہتے ۔ عیدین اور دوسرے تہوار وں میں سویرا کے گھر ان کے رشتے داروں کی ایک لمبی قطار تحاءف لے کر حاضر ہوتی ۔ ان سب کی خواہش تھی یہ چراغ ان کے گھر آئے ۔ سویرا نے یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ اس دوران بھی اس کے گھر رشتوں کا تانتا بندھا رہتا ۔ اُس کے والد اور والدہ کے بھرپور اصرار کے باوجود رشتہ دار اپنی خواہش کا اظہار کرتے ۔ خیر وہ دن بھی آ پہنچنا کہ سویرا نے اپنی رسمی تعلیم مکمل کرلی ۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل سویرا اب وہ والی بھولی بھالی سویرا نہیں تھی ۔

سڈنی کی کشادہ سڑکیں صاف ستھرا ماحول فلک بوس عمارتیں اور ان عمارتوں میں گورے چٹے لوگ اپنی اپنی روشوں میں منہمک ۔ سڑک پر نئے ماڈلوں کی خوبصورت کا ریں پورے کروفر سے خراٹے لیتے ہوئے آگے بڑھ رہیں تھیں اور اس طرح کی نئے ماڈل کی ایک خوبصورت کار کی فرنٹ سیٹ پر سویرا براجمان تیزی سے اپنی پوری خوشی کو ایک پروقار مسکراہٹ میں چھپائے بیٹھی تھی ۔ ایک آرٹ کاشاہکار نمونہ بنی ۔ اپنے خان صاحب کے لیے ایک پرکشش ماڈل سے کم نہ تھی ۔ اتنی ڈھیر ساری ٹریفک کے باوجود نہ کوئی ہارن بجا نہ کوئی انہونی بریک لگی جو کہ اس کے اپنے ملک میں عام وطیرہ تھا ۔ گھر سے یونیورسٹی جاتے ہوئے جا بجا بس کاشوفر پریشر بریک ایسی کس کے لگاتا کہ پہلے سے آخری مسافر ایک دوسرے پہ آن گرتے اور ابھی مسافر اپنے آپ کوبمشکل سنبھال ہی رہے ہوتا کہ دوسرا جھٹکا پھر تیسرا اور پھر ایک وقت ایسا آتا کہ ایک تھوڑی دیر تک کوئی پریشر بریک نہ لگتی تو بڑاعجیب سا محسوس ہوتا اور سکون غیر فطری سے لگتا ۔ پھر د ھوئیں کے بادل غم کے سائے کی طرح ہر وقت تنے رہتے اور گرمیوں کے موسم میں تو ان میں مختلف انواع اقسام کی بہت سی چیزیں مکس ہوجاتیں اور ایک کڑوا سامحلول بن کے فضا میں جذب ہوکر سانس کی نالی میں آکسیجن کے ساتھ میں گلا کی کھنکار میں اضافہ کرتا ۔ سویرا جو قدرتی حسن سے مالا مال ،خوبرو تھی انہی بسوں میں سفر کر کے یونیورسٹی جا تی ۔ اس کے دل میں ایک تڑپ تھی کہ کاش وہ اس گھٹن کے ماحول سے نکل کسی ترقی یافتہ ملک میں سیٹل ہوجائے ۔ اس اثناء دروازے پر زور سے بیل بجی اور ٹین ٹین کی بے ہنگم آواز نے سویرا کو جگا دیا ۔ سویرا نے آنکھیں کھولیں اور پھر زبردستی موند لیں اور کچھ وقت کے لیے مزید خواب میں رہنا چاہتی تھی ۔ وہ آسٹریلیا کے ایک خوبصورت شہر میں اپنے خان کے ساتھ سیر کررہی تھی ۔ سویرا رات کو دیر سے سوئی ۔ وہ آن لائن چیٹ میں مصروف رہی ۔ سڈنی میں سیفل خان صاحب رہتا جو کہ نسلاً پاکستانی تھا لیکن تعلےم کی غرض سے وہاں پر آباد تھا ۔ تقریباً ہر رات دو سے تین بجے تک اس پریمی جوڑے میں پیارومحبت اور رازونیازکی لمبی لمبی باتیں ہوتیں ۔ سویرا سارے دن کی روداد ،گھر سے کیمپس پہنچنے کی تفصیل اور کلاس فیلوز کی ساری باتیں اپنے خان سے شیئر کرتی ۔ خان بس سویرا کی میٹھی میٹھی باتوں سے لطف اندوز ہوتا ۔ تاہم خان کبھی کبھار اپنی پاکستانی سویرا کو رات کے دو بجے سرپرائز بھی دیتا ۔ خان کو اب بہت حد تک سویرا کی پسند وناپسند کا پتہ چل چکاتھا ۔ کبھی رات کے دو بجے تو کبھی رات کے تین بجے ،کبھی دوپہر کو ٹین ٹین کی آواز آتی ۔ اور دروازے پر پیزے والا سویرا کا من پسند فلیور لے کر کھڑا ہوتا ۔ سویرا کے لیے دلکش مصنوعی جیولری کے سیٹ،سویرا کے نئے ڈیزائن کے سوٹ ،سویرا کے لیے تازہ پھول،سویرا کے لیے بہت کچھ ۔ سویرا بھی دل و جان سے خان کے عشق میں گرفتار تھی ۔ سویرا اُٹھتے ،بیٹھتے،چلتے پھرتے ایک خیال میں مقیدرہتی ۔ جلدی سے جلدی وہ آسٹر یلیا کے شہر سڈنی پہنچ جائے ۔ وہ دن کے اُجالے میں صرف سڈنی کے خواب دیکھتی اور خان کے ۔

خان آج ہم ڈسکو چلتے ہیں اور دیکھیں گے زندگی کیسے طبلے کی تھاپ پر ناچتی ہے،عاشق کسطرح اپنے معشوق کو بانہوں کے گھیرے میں لے کر بے خود ہوتا ہے ۔ سویرا ایک ڈسکو میں داخل ہوئی ۔ جس کے اندربرقی روشنیاں جوایک درجن سے بھی زائد رنگوں میں تھیں پورے حال کو جگمگا رہی تھیں ۔ ایک نکڑ پر بار تھا ،جہاں سے سب ہی اپنی اپنی پسند کے جام بھر کر ، ہاتھوں میں لیے ، آکسٹرا کی مد ہوش دھنوں میں مست تھے اور لہرا رہے تھے ۔ سویرا منی سکرٹ اور چست جینز میں ملبوس ،اپنے بالوں کو خان کے شانوں پر بکھیرے دھیرے دھیرے آگے بڑھی ۔ سویرا کے سرخ وسپید رنگ کے بازءوں پربرقی روشنیاں منعکس ہورہی تھیں اورسویرا انھیں خان کے بازوں میں پیوست کیے بار کی طرف بڑھی ۔ بئیر کے کڑوے گھونٹ اپنے حلق سے نیچے اُتارے ۔ سویراکے پورے پیرہن میں ایک مستی سی چھاگئی اور وہ خان کے شانوں پر آہستہ آہستہ گر رہی تھی ۔ اس کے بعد سویرا کو اس کی دوست نے کلاس میں جھٹک دیا ۔ سویرا لیکچر ختم ہوگیا ۔ سویرا فوراً اپنے دوپٹے کو درست کرتے ہوئے ہوش میں آئی ۔

سویرا کے امتحانات قریب تھے ،وہ پوری طرح اپنی پڑھائی میں مصروف تھی کہ ایک دن سہ پہر کو کواڑ کھولا تو ساتھ والے گھر سے خان انکل اور انکی بیوی تھیں ۔ دونوں گھر میں حاضر ہوئے او رمہمان نوازی کے بعد خان انکل کی بیوی نے سویرا کی ماں سے الگ میں ایک بات کی ۔ وہ بات رات کو سویراکی ماں نے اپنے خاوند سے کی ۔ دراصل وہ دونوں سویرا کی خوبصورتی اور دانائی کی شہرت سن چکے تھے اور اُنھوں نے اپنے بیٹے کے لیے رشتے کی بات کی جو کافی عرصے سے سڈنی میں پڑھائی کے لیے گیا ہوا تھا اور اس پڑھائی کے بعد اُس کا وہیں سٹیل ہونے کا پروگرام تھا ۔ سیفل خان، خان انکل کا اکلوتا بیٹھا تھا ۔ وہ اچھی شکل وشبہات والا چست لڑکاتھا ۔ اُس کا بچپن سویرا کے قرب و جوار میں گزراتھا اورکسی حد تک سویراکے ذہن میں اسکا امیج بن چکا تھا ۔ اپنے خاندان سے باہر انھیں یہ ذراڈھنگ کا رشتہ معلوم ہواتو ایک رات سویرا کی ما ں نے سویرا کی خواہش کو مثبت پائے ہوئے ہاں کر دی اور یوں تقریبا ان دونوں خاندانوں میں رشتہ طے پایا گیا ۔ بلکہ لڑکے والے ذرا ذیادہ عجلت میں تھے ۔ اُنھوں نے منگنی کی بجائے نکاح کو تر جیح دی اور سیفل خان چونکہ پاکستان نہیں آسکتا تھاتاہم سکاءپ کے ذریعے کچھ ہی دنوں میں ان دونوں کی درمیان نکاح پڑھایا گیا ۔ عورت اپنے اُوپر پڑنے والی ہر نظر کو بھانپ لیتی ہے کہ اس کے پس پشت مقاصد کیا ہیں ۔ سویرا اورخان کے تعلقات میں کچھ تعطل سا آگیا ۔ تعلقات میں کمی سویرا کے لیے بہت خطرناک تھی ۔ وہ سمجھتی شاید خان صاحب پردیس میں رہتے ہیں وہاں پر ہوسکتا ہے اُس کاکام بڑھ گیا ہو،مصروفیات ذیادہ ہوں ۔ اکثر اوقات اس کی ساری سار ی رات آنکھ نہ لگتی ۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بڑھنے لگے اور سیاہ حلقے ایسے تھے جیسے چودھویں کے چاند کو گرہن لگ گئی ہو ۔ سویرا کاتروتازہ چہرہ ایک مرجھائے ہوئے پھول کی طرح نظر آنے لگا ۔ سویرا دو ،دو،تین ،تین،دن کچھ نہیں کھاتی ۔ اس سے سویرا کے ماں باپ کا اضطراب بڑھا ۔ سویراکے باپ نے کئی دفعہ سیفل خان کے باپ سے بات کی ۔ سویرا کی ماں اب مسلسل اُن کے گھر کے چکر کاٹنے لگی ۔ لیکن کہیں نہ کہیں کچھ گڑ بڑ ضرور تھی ۔ نکاح کے بعد دولہا دولہن کا آن لائن رابطہ ہوا اور سویرا کا قانونی حق تھا اس لیے وہ بلا جھجک بغیر چھپے دن رات اپنے آسٹریلوی خاوند سے رابطے میں رہتی اور اُدھر وہ بھی اپنے فارغ وقت کا صیح استعمال اپنی پاکستانی بیوی سے بات چیت کر کے گزارتا ۔ کچھ وقت کے بعد سویرا کے خاندان نے سویرا کی رخصتی کے بارے میں بات کی تو ٹال مٹول کرنے لگے ۔ اور آہستہ آہستہ سویرا اور خان صاحب کا رابطہ کم ہوتا چلا گیا ۔ سیفل خان اکثر اوقات مصروفیات کابہانہ بنا کر دو دو تین تین دن غائب رہتا ۔ پچھلے کچھ عرصے سے تحفے تحاءف میں بھی کمی آگئی تھی ۔ لیکن سویرا کا اضطراب بڑھتا گیا،چاہت بڑھتی گئی ،وہ خان کے بغیر جو لمحات گزا ارتی وہ ایسے گزارتی جیسے ماہی بے آب ۔

عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے ۔ رات اپنے پچھلے پہر کی طرف گامزن تھی،کہیں کہیں مرغ اذان دے رہے تھے ،فضا میں ایک پاکیزگی سی پھیل رہی تھی لیکن نیند کئی گھنٹوں انتظار کرنے کے باوجود بھی ندارد ۔ اس وقت سویرا کی نظرموبائل پر پڑی ،وقت گزارنے کے لیے اُس نے واٹس ایپ پر جاری سب اسٹیٹس ایک ایک کرکے پڑھنا شروع کیے ، کہیں کچھ تصاویر تو کہیں کچھ اشعاراپنے اندر گلے ،شکوے ، دکھ درد سے بھرے دل کو چیرنے والے جملے،اس دنیا کی بے وفائی کی مثالیں اور بہت سی اشیا ان میں پرت در پرت چل رہی تھیں کہ اچانک سویرا کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔ ایک ایسے اسٹیٹس پر جاکے اُس کی نظر رک گئی ،نہ صرف نظر بلکہ اُس کی زندگی کے سارے نظام رک گئے ،تھوڑی دیر کے لیے لگا وہ مر گئی ہے ۔ بے حس ،جامد،حرکت سے بغیر ۔ آنکھیں کُھلی رہ گئیں اور سویرا نے ایک زور دار چیخ ماری اور زمین پر آگری ۔ ادھر اس کے ماں باپ دوڑے اور جاکے ماں نے بیٹی کوسینے سے لگایا ۔ باپ کی نظر موبائل فون کی سکرین پر پڑی ۔ سیفل خان سڈنی میں دلہن کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ٹین ۔ ٹین ۔ ٹین ۔ بیگم، ذرا دیکھو دروازے پر کون ہے ۔ بیگم ،رہنے دو ۔ جاکے خود دیکھ لو ۔ پہلے مجھے یہ بتاوَ کے پھر کیا ہواسویرا کے ساتھ ۔ ٹین ۔ ٹین ۔ بیگم دیکھو پلیز ۔ ہاں ۔ دودھ والا ہے ۔ غالباً!پیسوں کا تقاضابھی کر رہا ہے اور ہاں پورے پونے پندرہ ہزار بنتے ہیں اس کے ۔ میں چپ سادھ کے کمبل میں سو گیا اور بیگم غالباً کچن میں چیک کر رہی تھیں کہ شام کی سبزی بھی موجود ہے یانہیں ۔ تھوڑی دیر بعد پھر دروازے پر بل بجی ہے ۔ ٹین ۔ ٹین ۔ ٹین ۔ ۔ ۔ ۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *